Monthly Archives: April, 2014

School for local councilors (first in the country)

lg

Advertisements

Imran Khan – Reasons for protest on 11th May

Watch here: http://www.dailymotion.com/video/x1sb7gy_imran-khan-s-exclusive-interview_news

Imran Khan in Kal Tak with Javed Chaudhary

Watch here: http://www.dailymotion.com/video/x1s4lj6_kal-tak-special-interview-with-imran-khan-jung-group-dhandli-main-kis-tarhan-mulavis-thi-29th-april_news

Imran Khan’s speech at 18th Youm-e-Tasees


Watch Part 1
Watch Part 2

Comments & Objections on shortlisted candidates for Ehtesab Commissioners KP

comsource: https://twitter.com/kpgovt/status/459398432059166721

Spinal Surgery OPD started in Hayatabad Medical Complex

PK-86 Swat By-elections


Candidates

  • PTI: Dr. Haider Ali (See detailed profile here)
  • ANP: Adalat Khan
  • PML-N: Sardar Khan  (brother of previous winner MPA Qaimoos Khan)
  • PPP: Shahi Khan
  • JUI-F: Ali Shah

22-04-2014: Exclusive (recorded) Interview with Dr. Haider Ali Khan (Listen Here on Insaf Radio)
Host: RJ Qazi Jalal


20-04-2014: Imran Khan speech in Swat (election campaign)



  •  News: 07-04-2014
  • Imran Khan video message for Dr. Haider Ali





Uniform Education System starts from Class 1

watch here: https://www.facebook.com/photo.php?v=761998207184220

Pervaiz Khattak meets with DG NAB

  • Discussed about the KP Ehtisab Commission which will be operational soon
  • CM appreciated 25 days performance of the new DG NAB (arrest of 17 corrupt persons)
  • Shared difference on Plea-bargain
    • NAB releases the corrupt after recovering a meager amount
    • KP wants every penny be taken back
  • Corrupt should not be posted on important posts (list of corrupt being maintained)
  • Corruption cases reported to CM Complaint Cell to be given to NAB
  • Meeting will be held between DG NAB and Chief Ehtisab Commissioner (once appointed)
  • Full report: http://insaf.pk/news/national-news/item/1787949-cm-kps-meeting-with-dg-nab-shehzad-salim-april-23-2014

Pervaiz Khattak again indicates of using biometrics in local body elections

Ali Asghar Khan (probable candidate) speaks in Graduate Night 2006 at Lahore University

Asad Umar – A candid Interview

Key points of interview
– Khan sb sa pehli mulaqat kab aur kahan hoi ?
– khan sb na Asad umar ko kesa PTI mein ana ka lia raazi kia ?
– Imran khan ka bad agar party chairman ki peshkash ho tu ?
– Siasat mein ana ka bad zindagi mei kia tabdeli ai ?
– KPK Govt ki performance pa Asad umar ka tazjiya?
– PTI metro bus ki mukalfat kyn ker rahi hai ?
– Young generation ka lia koi pegham ?

An Analysis of the PK-45 by Shabbir Hussain

خیبرپختونخوا قانون ساز ایوان کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کی اگرچہ تاریخوں کا اعلان ابھی نہیں ہوا‘ لیکن رُکن صوبائی اسمبلی سردار مہتاب اَحمد خان کے گورنر بننے سے یہ نشست خالی ہوئی ہے اور اُن کی جانب سے اشارے کنائیوں میں جن دو افراد کے نام گردش میں ہیں‘ وہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے دیرینہ کارکن نہیں بلکہ موصوف کے اپنے ہی قریبی عزیز ہیں۔ کیا پارٹی کارکنوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی؟ کیا وہ صرف ووٹ دینے والے اور غلاموں کی طرح فیصلے ماننے کے پابند ہوتے ہیں؟ کیا یہ خدائی قانون ہے کہ متوسط اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والا کارکن ہمیشہ کارکن ہی رہے؟ اگر جمہوریت کی بجائے سیاسی غلامی والی سوچ ’نواز لیگ‘ میں پائی جاتی ہے تو ’تحریک انصاف‘ بھی اِس سے مبرا نہیں‘ جس کی جانب سے ’پی کے پینتالیس‘ کے لئے ایک ایسے فرد کو نامزد کرنے پر اتفاق ہوتا نظر آرہا ہے جس کا تعلق متعلقہ انتخابی حلقے (’سرکل بکوٹ‘) کی کسی بھی یونین کونسل سے نہیں۔ اگرچہ بطور ڈومیسائل (پیدائش کا مقام) نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں آگے رہنما کا تعلق ضلع ایبٹ آباد سے ہے لیکن وہ اپنی کاروباری مصروفیات کی بناء پر زیادہ تروقت دیگر شہروں میں بسر کرتے ہیں جس کی بناء پر عام آدمی یا عام پارٹی کارکنوں سے اُن کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے جسے سیاسی تجزیہ کار ’کامیابی کے انتہائی کم امکانات کی بڑی وجہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم یوں محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک اِنصاف ’پلیٹ‘ میں رکھ کر ایک مرتبہ پھر صوبائی اسمبلی کی نشست نواز لیگ کو بطور تحفہ دینا چاہتی ہے۔ ’این اے ون (پشاور ون)‘ پر تحریک اِنصاف کے ایک غلط فیصلے ہی کی طرح ’پی کے پینتالیس‘ کے حوالے سے بھی فیصلہ صرف غلط ثابت نہیں ہوگا بلکہ یہ ہزارہ ڈویژن میں پارٹی کی کشتی ڈبونے کے مترادف اقدام ہوگا۔ کیا ہم توقع کر سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہزارہ کی منتخب قیادت اور پرخلوص کارکنوں کے خیالات کو سنا جائے اور پارٹی نامزدگی کرتے ہوئے ’ڈرائنگ رومز‘ کی سیاست کرنے والے ماضی کی اُن غلطیوں کو دُہرانے سے اجتناب کریں گے‘ جس سے ماضی میں تحریک انصاف کی مقبولیت کم ہوئی اور حال میں اس کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے؟

پی کے پینتالیس‘ آٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جسے عرف عام میں ’سرکل بکوٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اِن یونین کونسلوں میں دلولہ‘ بوئی‘ ککمنگ‘ پٹن‘ بکوٹ‘ بیروٹ‘ پلک اور نمل شامل ہیں اور یہاں سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے صدور اور نمائندہ وفود پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں کہ وہ کسی بھی درآمدشدہ (ایمپورٹیڈ) شخص کو بطور اُمیدوار قبول نہیں کریں گے۔ پارٹی قائد عمران خان سے ملاقات کے دوران بھی یہ بات نہایت مؤدب انداز میں اُن کے گوش گزار کی گئی کہ ’’جناب عالیٰ‘ سرکل بکوٹ کی نمائندگی کا حق صرف اور صرف اُسی شخص کو ہونا چاہئے‘ جس پر مقامی کارکنوں کا اتفاق رائے ہو۔‘‘ یہ کوئی پیچیدہ سائنسی مسئلہ نہیں کہ جس کا حل اس قدر مشکل یا وقت طلب ہو۔ پارٹی کی سطح پر مشاورتی اجلاس طلب کیاجائے تو نامزدگی کے فیصلہ اور قیادت کا بارے میں ابہام دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔ عجب ہے کہ ایک ایسے اُمیدوار کو پہاڑی علاقوں پر مشتمل دور دراز کی نشست کے لئے نامزد کر دیا جائے‘ جبکہ سال 2002ء کے عام انتخابات میں اُس نے ایک گنجان آباد شہری علاقے سے صرف 4687 ووٹ حاصل کئے تھے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے آبائی حلقے کے ’ایک لاکھ نو ہزار دو سو چوون‘ میں سے ’چار ہزار چھ سو ستاسی‘ ووٹ حاصل کرے بھلا وہ کیسے کسی دوسرے انتخابی علاقے کے لئے ’کامیاب گھوڑا‘ ثابت ہوسکتا ہے جس سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت ’’اَچانک‘‘ اور ’’پراسرار انداز‘‘ میں اِس قدر اُمیدیں لگائے بیٹھی ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ دیگر بڑی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کے فیصلے بھی ’ڈرائنگ رومز‘ میں ہونا شروع ہو گئے جو کسی بھی طور ’انقلابی تبدیلی لانے اور سیاسی کلچر تبدیل کرنے کے لئے کوششیں‘ کرنے کا دعویٰ رکھنے والی ایک جماعت کے خوش آئند نہیں۔ واضح رہے کہ ڈرائنگ روم کی ’بدنام زمانہ اِصطلاح‘ کی اِیجاد سیاست میں متحرک Lobbies کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو مخصوص سیاسی مفادات رکھنے والے اُن گروہوں کی ترجمان ہوتی ہے جو کسی سیاسی جماعت پر اپنے ایسے فیصلے مسلط کرتے ہیں جن کا تعلق کارکنوں کی سوچ سے نہ ہو۔ عموماً یہی دیکھا جاتا ہے کہ ایسے فیصلے مسلط کرنے سے کارکنوں کے حوصلے پست اور جدوجہد کرنے کے عزم کا جھکاؤ ذاتی مفادات یا مصلحتوں کی طرف ہو جاتا ہے۔

بائیس اپریل شام گئے تک تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ’پی کے 45‘ کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے چند سرکردہ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اُن کا مؤقف سنا لیکن درون خانہ حالات سے واقف کاروں کا کہنا ہے وہ ذہنی طور پر پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے اِس لئے دلائل پر بہت کم بحث ہوئی۔ سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ’مقامی اُمیدوار‘ کو ’لالی پاپ‘ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’آپ تو بہت سمجھ دار ہیں‘ آپ کی تحریک انصاف سے سیاسی و دلی وابستگی اور قربانیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں‘ (لہٰذا ضمنی انتخاب کے لئے پارٹی ٹکٹ کی بجائے) آپ کو تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مشیر بنا دینا چاہئے۔‘‘ یادش بخیر گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں ’پی کے پینتالیس‘ پر رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1 لاکھ 19 ہزار 99 تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ حتمی نتیجے کے مطابق یہاں سے 45.89 فیصد یعنی 65 ہزار 374 افراد نے اپناحق رائے دہی استعمال کیا تھا اور کامیابی پاکستان مسلم لیگ نواز کے نامزد اُمیدوار سردار مہتاب احمد خان کے حصے میں آئی تھی جنہوں نے 27 ہزار 806 ووٹ حاصل کئے تھے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار عبدالرحمن خان عباسی رہے جنہوں نے 14 ہزار 562 ووٹ لئے۔ قابل ذکر ہے کہ ’پی کے پینتالیس‘ سے کل 11 اُمیدواروں نے عام انتخاب میں بطور اُمیدوار حصہ لیا تھا اور ان میں سے 5 آزاد جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین اور متحدہ قومی موومنٹ نے کہیں اعلانیہ تو کہیں غیراعلانیہ تحریک انصاف کے اُمیدوار کی حمایت کی تھی یوں مقابلہ ’ون ٹو ون‘ نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان رہا لیکن تحریک انصاف کی کامیابی نہ ہونے کی بڑی وجہ وہ مقامی کارکنوں میں پائے جانے والے وہ اختلافات تھے‘ جنہیں حل کرنے کے لئے پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے بہت ہی کم توجہ دی گئی۔ اگر آزاد اُمیدوار اَقرار اَحمد عباسی (حاصل کردہ ووٹ 4124)‘ جماعت اِسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سعید اَحمد عباسی (حاصل کردہ ووٹ 5574) اور آزاد اُمیدوار نذیر اَحمد عباسی (حاصل کردہ ووٹ 8276) کو یکجا کر لیا جاتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ تحریک انصاف کا نامزد اُمیدوار کامیاب نہ ہوتا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ تحریک انصاف کا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ جو اِتحاد عام اِنتخابات کے بعد کیا گیا‘ وہ انتخابات سے قبل نہ ہو سکا۔ صاف ظاہر ہے کہ کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو تحریک انصاف کی طاقت کو تقسیم اور اُنہیں قانون ساز ایوانوں سے دور رکھنا چاہتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کا خیال ’پی کے پینتالیس‘ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے ایک نادر موقع پر خیال رکھنا ہے بلکہ بہت زیادہ خیال رکھنا ہے۔

تحریک اِنصاف رواں ماہ (پچیس اپریل) اپنا ’18واں یوم تاسیس‘ منا رہی ہے اُور اِس سلسلے میں ملک بھر سے آئے کارکنوں کا اجتماع اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا‘ جس کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور تحریک انصاف کی پہلی کامیابی کا عرصہ ہے جسے کسی بھی صورت آخری نہیں ہونا چاہئے اور ایسا صرف اور صرف اسی صورت ممکن ہوگا جبکہ ’کارکنوں‘ کو مقامی سطح پر اُن کی اپنی ہی قیادت کو چننے کا موقع دیا جائے۔ جمہوریت کی اصل روح سیاسی جماعتوں میں پائی جانے والی ’جمہوری اَقدار‘ ہوتی ہیں جس سے ’جمہوری سوچ اور فکر و عمل پروان چڑھتے ہیں۔ اُمید ہے ’یوم تاسیس‘ پر اظہار مسرت و تشکر کے ساتھ ماضی کی غلطیوں بارے میں غور اور اُنہیں نہ دُہرانے کا عہد کیا جائے گا اور اگر ایسا کر لیا جاتا ہے تو چڑھتے سورج کو چھپایا نہں جا سکے گا اور ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخاب کے لئے نامزدگی صرف اور صرف ’مقامی‘ پارٹی کارکنوں کے حصے میں آئے گی‘ جو ’سرکل بکوٹ‘ پر تین دہائیوں سے مسلط موروثی سیاست کے اُس دور کا ’احسن طریقے سے‘ خاتمہ چاہتے ہیں‘ جس نے اُنہیں سوائے پسماندگی میں اضافے کچھ اُور نہیں دیا۔ساری نظریں عمران خان پر لگی ہوئی ہیں‘ جن کی جانب سے تاحال کوئی ’حتمی فیصلہ‘ تو سامنے نہیں آیا‘ لیکن اُن کا لب و لہجے سے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ سرکل بکوٹ کے مقامی کارکنوں کی بجائے اپنے اِردگرد خوشامدانہ‘ توصیفی اور تعریفی فقروں کے ساتھ منڈلانے والوں کے گمراہ کن تجزئیوں سے مرعوب ہیں۔ کیا ’تحریک انصاف‘ سے زیادہ بھی کوئی دوسری شے اہم ہو سکتی ہے؟

source: http://notes.io/246 by Shabbir Hussain (via Twitter)

Local Govt Elections without Biometrics

biosource: http://www.geo.tv/urdu/4-22-2014/urdu/4-22-2014_140448_1.gif

Ehtisab Commission to be functional within weeks

PTI Press Release: http://insaf.pk/news/national-news/item/1787920-cm-kp-listening-to-the-problems-of-the-people-at-cm-complaint-cell-april-19-2014

ehtCredits: Naya KPK (Facebook)

Stipend for unemployed Masters degree holders in KPK

Imran Khan meeting with Atta-ur-Rehman

IK presides over a high level meeting on Higher Education and Education City in KPK (Naeem ul Haque @ Twitter)

atta

at

Rajab Ali – DSP Mardan arrested for corruption

  • National Accountability Bureau (NAB) Khyber Pakhtunkhwa (K-P) chapter arrested serving DSP Mardan (who promoted him from SHO to DSP with such record?)
  • Responsible for illegal detention of innocent people as SHO (Hayatabad)
  • He is believed to have political connections and during the previous government he enjoyed “unprecedented backing” of a very senior leader of the ruling party
  • Full news: http://www.dailytimes.com.pk/national/19-Apr-2014/nab-arrests-dsp-over-corruption-charges

 HISTORY

Old news about his corruption (March 22, 2012)
http://www.thenewstribe.com/2012/03/22/peshawar-cop-becomes-billionaire/

Watch Him: http://tune.pk/video/403031/Peshawar-Police-Officer-Becomes-Billionaire

Check on School Teachers through IMU

(Details of Independent Monitoring Units can been seen here. Other related Eduction news are also recommended)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/04/140417_kp_education_monitoring_rk.shtml imu

KPK Police to have Special Commandos Force like US Marines, Al-Zarar Company

 

Consultants to conduct feasibility of Peshawar Sky-rail

Full project details available at: Peshawar Mass Transit System – Project Details

Action against corrupt Police men

Election of Candidate through secret ballot

pti

School Adoption Program

Computerization of Criminal Records

Revenue Collection Target achieved in 9 months

 

ali

3 top KPK sports officiers suspended

more updates will be posted here as they come


Official govt verdict (source: https://twitter.com/kpgovt/status/454712689332219904/photo/1)

spo


12-04-2014: Pervaiz Khattak suspends 3 seniors sports department officiers

  • After initial inquiry of 1.8 million transfered to Mahmood Khan’s (PTI minister) account (my view: strange/fishy)
  • Mahmood Khan cleared
  • Following suspended
    • Sports Secretary (Ahmad Hassan)
    • DG Sports (Tariq Mehmood) who is a BS-17 officier working at BS-19 position
    • Drawing and disbursement officer at the directorate of sports (Mohammad Tariq)
  • Inquiry officier: Dr Hammad Awais Agha (BS-21).
  • My verdict: They can be blamed for violating rules but who asked them to do so? Why minister got clean chit
  • http://www.dawn.com/news/1099315/three-suspended-for-transferring-funds-to-ministers-account

10-04-2014: Imran Khan urged CM to ban discretionary funds (read with reference to previous story)


08-04-2014: Sports minister, Mahmood Khan transfered Rs. 1.8 million (18 lac) from discretionary fund to his personal account

KPK Govt requests for list of provincial NAB cases

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے بدعنوانیوں میں ملوث صوبائی ملازمین کی تفصیلات نیب سے طلب کرلیں
https://twitter.com/kpgovt/status/454323797748117505

پشاور: جن ملازمین کے خلاف نیب انکوائری کررہا ہےانھیں کسی بھی عہدے پر تعینات نہیں کیاجائےگا،وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شاہ فرمان
https://twitter.com/kpgovt/status/454323834158870528

پشاور: صوبائی حکومت تمام انکوائریوں میں نیب کے ساتھ تعاون کرے گی، شاہ فرمان
https://twitter.com/kpgovt/status/454323874419990528

Director General and others held (Nathiagali Housing Scheme)

nat

With Kamran Shahid